0

وفاقی آئینی عدالت نے مقررہ مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے کئی کئی ماہ عدالتی فیصلے محفوظ رکھنے اور سنانے سے قبل لیک ہونے کے خلاف فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے مقررہ مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے سات صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا ہے۔عدالت نے فیصلے کی نقول عملدرآمد کےلیے تمام ہائی کورٹس کو بھجوانے کا حکم دیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلہ 90 دن میں سنانےکی پابند ہیں، مقررہ مدت کے بعد سنایا گیا فیصلہ اسی بنیاد پر ہی کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے رولز قوانین کا درجہ رکھتے ہیں، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو نتائج بھی بھگتنا ہوتے ہیں، بنچ ممبران کا جانے انجانے میں سنائے جانے سے قبل فیصلہ لیک کرنا رولز کے خلاف ہے، تمام ججز اور عدالتی عملہ رولز پر عملدرآمد کا مکمل پابند ہے، بنچ کا سربراہ قبل از وقت فیصلہ یا اس کے نکات لیک ہونے پر ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے، مقدمہ کی ازسرنو سماعت فیصلہ محفوظ کرنے والا یا کوئی دوسرا بنچ بھی کرسکتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق ہائی کورٹس میں ایسا معاملہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھیجا جائےگا، زیرالتواء مقدمات کا بوجھ ہو تو انصاف کی بروقت فراہمی ضروری ہے، کچھ عرصے سے فیصلے محفوظ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں