0

ٹرمپ، گرین لینڈ اور وینزویلا: طاقت کی سیاست اور عالمی امن کا زوال— سردار شوکت محمود

دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور عالمی امن جیسے تصورات تیزی سے کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس بگاڑ کی سب سے نمایاں علامت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی ہے، جو طاقت، دھمکی اور جبر کو سفارت کاری کا نعم البدل سمجھتی ہے۔ گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں ہوں یا وینزویلا میں براہِ راست امریکی فوجی کارروائی — یہ سب الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ہی جارحانہ سوچ کی مختلف شکلیں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اب محض ایک متنازع امریکی صدر نہیں رہے، بلکہ وہ عملی طور پر عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
وینزویلا: ریاستی خودمختاری کی کھلی پامالی
حالیہ دنوں میں وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، جب ایک خودمختار ملک کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو طاقت کے زور پر گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا گیا۔ یہ اقدام جدید تاریخ میں ایک نہایت خطرناک مثال ہے، جس کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔
یہ کارروائی نہ صرف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ اس اصول کو بھی روند ڈالتی ہے جس کے تحت کسی ملک کو دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کا حق حاصل نہیں۔ اگر کسی طاقتور ملک کو یہ اجازت دے دی جائے کہ وہ جب چاہے کسی ریاست کے سربراہ کو اغوا کر کے اپنے ملک لے آئے، تو پھر عالمی نظام محض طاقتوروں کا کھیل بن کر رہ جائے گا۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مغربی دنیا، جو ہمیشہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا درس دیتی رہی ہے، اس غیر معمولی جارحیت پر یا تو خاموش رہی یا محض رسمی بیانات تک محدود رہی۔ یہ دوہرا معیار ہی دراصل عالمی نظام کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
گرین لینڈ: نوآبادیاتی ذہنیت کی واپسی
اسی جارحانہ سوچ کا تسلسل ہمیں گرین لینڈ کے معاملے میں بھی صاف نظر آتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکہ گرین لینڈ کو ’’آسان طریقے‘‘ یا ’’سخت طریقے‘‘ سے حاصل کرے گا، کسی جدید جمہوری ریاست کے سربراہ کا بیان نہیں بلکہ انیسویں صدی کی نوآبادیاتی زبان معلوم ہوتا ہے۔
گرین لینڈ کوئی غیر آباد خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ قوم کا گھر ہے، جس کی اپنی تاریخ، ثقافت اور سیاسی شناخت ہے۔ یہ جزیرہ اگرچہ ڈنمارک کے زیر انتظام ہے، مگر اسے نیم خودمختار حیثیت حاصل ہے اور اس کے عوام اپنی تقدیر کے فیصلے کا حق رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کا اس جزیرے کو محض ایک اسٹریٹجک اثاثہ سمجھنا دراصل انسانی ارادے اور عوامی خودمختاری کی صریح توہین ہے
قومی سلامتی یا عالمی بالادستی؟
ٹرمپ انتظامیہ بار بار یہ دعویٰ کرتی ہے کہ گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب امریکہ پہلے ہی گرین لینڈ میں بڑے فوجی اڈے رکھتا ہے، میزائل وارننگ سسٹمز چلا رہا ہے اور ڈنمارک نیٹو کا قریبی اتحادی ہے، تو پھر ملکیت پر اصرار کیوں؟
اصل جواب سلامتی نہیں بلکہ عالمی بالادستی ہے۔ چین اور روس کی آرکٹک میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں امریکہ کے لیے باعثِ تشویش ضرور ہو سکتی ہیں، مگر اس کا حل طاقت کے زور پر زمین ہتھیانا نہیں۔ اگر یہی منطق اختیار کر لی جائے تو پھر دنیا میں کسی بھی طاقت کو کسی بھی خطے پر قبضے سے روکا نہیں جا سکے گا۔
وسائل، موسمیاتی تبدیلی اور طاقت کی ہوس
گرین لینڈ کے نیچے موجود نایاب معدنیات، یورینیم، لوہے اور ممکنہ تیل و گیس کے ذخائر بھی اس پوری کہانی کا ایک اہم مگر خاموش پہلو ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث برف پگھل رہی ہے اور ان وسائل تک رسائی آسان ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں یہ مان لینا سادہ لوحی ہو گی کہ امریکہ کی دلچسپی محض دفاعی ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جہاں طاقت اور وسائل اکٹھے ہوں، وہاں اخلاقیات ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں — اور ٹرمپ کی پالیسی اسی تلخ حقیقت کی عکاس ہے۔
نیٹو: اتحاد یا تضاد؟
نیٹو جیسے دفاعی اتحاد کی بنیاد باہمی اعتماد، خودمختاری کے احترام اور مشترکہ دفاع پر رکھی گئی تھی۔ لیکن جب اس اتحاد کا سب سے طاقتور رکن ہی ایک دوسرے رکن (ڈنمارک) کی سرزمین پر قبضے کی بات کرے تو یہ اتحاد اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتا ہے۔
ڈنمارک کی وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ گرین لینڈ پر قبضے کی کوشش نیٹو کے خاتمے کے مترادف ہو گی، محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ اگر نیٹو اس معاملے پر خاموش رہا تو یہ اتحاد صرف ایک عسکری ڈھانچہ رہ جائے گا، اصولی قوت نہیں۔
گرین لینڈ کے عوام: سب سے نظرانداز آواز
اس پوری بحث میں سب سے زیادہ نظرانداز ہونے والی آواز خود گرین لینڈ کے عوام کی ہے۔ سروے واضح طور پر بتاتے ہیں کہ اگرچہ وہ ڈنمارک سے آزادی کے خواہاں ہو سکتے ہیں، مگر امریکہ کا حصہ بننے کے حق میں نہیں۔ یہ حقیقت اس دعوے کو جھوٹا ثابت کرتی ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیاں کسی عوامی خواہش کی نمائندہ ہیں۔
اصل خطرہ کہاں ہے؟
آج دنیا کو سب سے بڑا خطرہ کسی ایک ملک، کسی ایک ہتھیار یا کسی ایک جنگ سے نہیں، بلکہ اس سوچ سے ہے جو طاقت کو حق اور جبر کو پالیسی بنا دے۔ جب عالمی قوانین طاقتوروں کے لیے اختیاری اور کمزوروں کے لیے لازمی بن جائیں، تو امن محض ایک نعرہ رہ جاتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اسی سوچ کی سب سے نمایاں علامت ہیں۔ وینزویلا میں فوجی کارروائی ہو یا گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی — یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ اگر دنیا نے اب بھی اجتماعی طور پر مزاحمت نہ کی تو آنے والا دور قانون کا نہیں، طاقت کا ہو گا۔
اور یہی وجہ ہے کہ آج ڈونلڈ ٹرمپ محض ایک متنازع سیاست دان نہیں، بلکہ عملی طور پر دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں