0

اگر زمینی کارروائی ہوئی تو ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ واپس نہیں جائے گا، ایرانی فوج

ایران کی مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈر نے ممکنہ زمینی کارروائی کے خطرے کے پیش نظر فوج کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج کے آپریشنل کمانڈر چیف امیر حاتمی نے ایک اعلیٰ سطحی عسکری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آپریشنل ہیڈکوارٹرز کو ہدایت دی کہ دشمن کی نقل و حرکت پر انتہائی باریکی سے نظر رکھی جائے اور ہر لمحے کی صورتحال سے آگاہ رہا جائے۔
انہوں نے فوجی کمانڈرز کو ہدایت کی کہ امریکا اور اسرائیل کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ زمینی کارروائی کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔
ایرانی کمانڈر نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر دشمن نے زمینی حملے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا اور حملہ آوروں کو واپس جانے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔اہرین کے مطابق یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے اور اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ حملے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنا چاہتا ہے۔عرب امارات نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے ایران کے خلاف فوری اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔
اپنے بیان میں اماراتی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی مداخلت ناقابلِ قبول ہے اور یہ عالمی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ اہم بحری گزرگاہ بند رہی تو دنیا بھر میں توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تجارت اور سپلائی چین کو شدید خطرات لاحق ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔
سلطان احمد الجابر نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت ایران کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ عالمی امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور اس اہم گزرگاہ کو بحال کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ پوری دنیا کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں