0

کارگو طیارہ حادثہ: وسیع سمندر اور جون، جولائی کی بپھری لہروں کے باعث سرچ آپریشن بڑا چیلنج بن گیا

بلوچستان اورماڑہ کے قریب سمندر میں شارجہ سے کراچی آنے والے نجی کمپنی کے کارگو طیارے کو حادثہ پیش آیا جس کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کی بحری ٹیم سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لئیے روانہ کردی گئی۔

رپورٹ کے مطابق کے ٹو ایئرویز طیارے کی تلاش کے لیے فضائی اور بحری کارروائیاں تیز کردی گئیں، متعدد بحری اور فضائی وسائل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔متعلقہ ادارے لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے مشترکہ آپریشن میں مصروف ہیں، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں پاک بحریہ، پاک فضائیہ اور مرچنٹ ویسل شریک ہیں، ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقے میں سرچ آپریشن بلا تعطل جاری رکھے ہوئے ہیں.
ذرائع کے مطابق پاک بحریہ کے دو بحری جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار اور پی این ایس حنین متاثرہ علاقے میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن سر انجام دے رہے ہیں، پاک بحریہ کا ہوائی جہاز بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہے، وسیع سمندری علاقے اور جون، جولائی میں بپھری لہروں کے باعث سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ایک بڑا چیلنج ہے۔

ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن نے کہا کہ ایدھی فاؤنڈیشن کا ائیر کرافٹ پائپر سنیکا APBFM بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئیے صبح ٹیم کے ساتھ روانہ کردیا گیا، ایدھی کا ایئر کرافٹ پائپر سنیکا APBFM سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

دوسری جانب کے ٹو ایئرویز انتظامیہ نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ کے ٹو ایئر کارگو بوئنگ طیارہ شارجہ سے کراچی ارہا تھا، طیارے کا گزشتہ رات 9:21 بجے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا، بوئنگ 737 طیارے کا رجسٹریشن نمبر AP-BOI ہے، طیارے میں پانچ ارکان سوار تھے، پائلٹ محمد رضوان ادریس، فرسٹ افسر فیصل محمود شامل تھے۔

اعلامیہ کے مطابق لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان، انجنیئر عارف صدیقی اور محمد حامد شامل ہیں، متعلقہ اداروں کی جانب سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، کے ٹو ایئر ویز پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں سے بھرپور تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

شارجہ سے پاکستان کے لئے اڑان بھرنے والے K2 ایئر کے کارگو طیارے کے انجینئر محمدعارف صدیقی پی آئی اے سے ریٹائرڈ انجینئر تھے، محمد عارف صدیقی نے اپنے کیریئر کا آغاز پی آئی اے کے شعبہ انجینئرنگ سے کیا تھا، ذرائع نے کہا کہ پی آئی اے سے ریٹائرمنٹ کے بعد محمد عارف صدیقی کی خدمات کےK2 ایئر نے حاصل کیں تھیں۔

ادھر تحقیقاتی اداروں نے انویسٹی گیشن کے لیے درکار شواہد کی بنیاد پر کراچی ایئرپورٹ پر کے ٹو ایئر کا دفتر سیل کر دیا، ذرائع نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم بلوچستان روانہ ہونے سے قبل کے ٹو ایئر کے دفتر کا معائنہ اور جانچ کرے گی۔
لاپتا طیارے کی تحقیقات کرنے والی بیورو آف سیفٹی انویسٹی گیشن کی ٹیم نجی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے کچھ دیر میں کراچی پہنچے گی، انویسٹی گیشن ٹیم کراچی سے جائے حادثہ کے لیے روانہ ہوگی، بیورو آف سیفٹی انویسٹی گیشن کی ٹیم کے ٹو ایئر کے دفاتر میں ریکارڈ کا بھی جائزہ لے گی۔
ذرائع نے کہا کہ طیارہ حادثے کی تحقیقات کرنے والے بیورو آف سیفٹی انویسٹی گیشن کی 11 رکنی ٹیم اسلام آباد سے کراچی پہنچ رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں