0

پاک سعودی ترک دفاعی معاہدہ خطے میں امریکا کیلئے بدلتی سوچ کی علامت ہے، ایرانی وزارت خارجہ

تہران: ایران نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امریکا کے حوالے سے بدلتی ہوئی سوچ کی علامت قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تین اہم علاقائی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کے معاملات میں نئے انداز سے سوچ رہے ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران خطے کے ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سکیورٹی کوئی ایسی چیز نہیں جسے “غلط یا جعلی ثالثوں” سے خرید کر حاصل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے پاکستان، ترکی اور سعودیہ کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں اور اسے اس معاہدے پر فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیںانہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک نے اپنے تجربات سے یہ سمجھا ہے کہ خطے کی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر مکمل انحصار کے بجائے حقیقت پر مبنی اور علاقائی سطح پر قابلِ عمل اقدامات ضروری ہیں۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ایسا کوئی بھی منصوبہ جو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتا ہو اور خطرات کی درست نشاندہی کرتا ہو، خطے میں سکیورٹی کے قیام اور عدم استحکام کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بقول ایسے اقدامات خطے کو اسرائیلی خطرے سے پیدا ہونے والے عدم استحکام سے بھی محفوظ رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون کو خطے میں بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں