0

پاکستان کی بڑھتی آبادی قومی سلامتی اور پائیدار ترقی کے لیے بڑا چیلنج ہے، ماہرین

لاہور، سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (کیس) لاہور کے زیرِ اہتمام ’’پاکستان کی آبادی میں اضافے کا انتظام: آبادیاتی دباؤ، شہری پھیلاؤ اور انسانی سلامتی کے چیلنجز کا جائزہ‘‘ کے عنوان سے ایک اہم سیمینار منعقد ہوا، جس میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔ سیمینار میں پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ، وسائل پر بڑھتے دباؤ اور انسانی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیتے ہوئے مؤثر حکمتِ عملی، مربوط پالیسی سازی اور پائیدار ترقی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
کیس لاہور کے ڈائریکٹر ایئر مارشل عرفان احمد (ریٹائرڈ) نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔ انہوں نے سیمینار کے موضوع کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے آبادیاتی مسائل کو ان کے وسیع تر قومی، معاشی اور سلامتی کے تناظر میں سمجھنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
پاپولیشن سینٹر پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر منہاج الحق نے ’’پاکستان کے آبادیاتی رجحانات اور آبادی میں اضافہ: ملک کے لیے تزویراتی مضمرات‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ عوامی خدمات، قدرتی وسائل اور سماجی و معاشی ترقی پر مسلسل دباؤ بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی، بچیوں کی تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے، صحت کی بہتر سہولیات اور فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ کو مؤثر آبادیاتی انتظام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پائیدار مستقبل کے لیے تعلیم، روزگار اور وسائل کی منصفانہ و مؤثر تقسیم سے متعلق مربوط پالیسیاں تشکیل دینا ضروری ہے۔
سینئر پالیسی ایڈوائزر اور سینٹر فار ہیلتھ پالیسی انوویشن (سی ایچ پی آئی)، پائیدار ترقی پالیسی ادارہ (ایس ڈی پی آئی) اسلام آباد کی سربراہ ڈاکٹر رضیہ صفدر نے ’’آبادی میں اضافہ، شہری پھیلاؤ اور انسانی سلامتی: پاکستان کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجز‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافے، شہروں کی غیر منصوبہ بند توسیع اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کے نظامِ صحت اور بنیادی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے صحت کے شعبے کے لیے ملکی وسائل کی مؤثر فراہمی، آبادی کے مربوط انتظام اور خواتین کی بااختیاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ’’ون ہیلتھ‘‘ کے جامع تصور کو اپنانے کی ضرورت بھی اجاگر کی، جس کے تحت انسانی صحت، حیوانی صحت اور ماحولیات کو باہم مربوط سمجھتے ہوئے پالیسی سازی اور عملی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے تحت پلاننگ کمیشن کی رکن (آبادی) ڈاکٹر شبانہ حیدر نے ’’مستحکم پاکستان کی تعمیر: آبادی کے انتظام اور پائیدار شہری ترقی کا لائحۂ عمل‘‘ کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور شہری پھیلاؤ پاکستان کے لیے اہم انتظامی، معاشی اور سماجی چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق صحت، تعلیم، ہنر مندی کے فروغ اور خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت کے لیے سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ڈاکٹر شبانہ حیدر نے آبادی کے مربوط انتظام، بہتر طرزِ حکمرانی، سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور پائیدار شہری منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مناسب حکمتِ عملی اور مؤثر عمل درآمد کے ذریعے آبادیاتی دباؤ کو معاشی و سماجی ترقی کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس سے ایک زیادہ مستحکم، خوشحال اور جامع ترقی کی حامل ریاست کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
سیمینار کے اختتامی کلمات میں کیس لاہور کے صدر ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ) نے بڑھتی ہوئی آبادی کو پاکستان کی ایک اہم تزویراتی قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اور معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت ضروری ہے۔
انہوں نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آبادی کی فلاح و بہبود سے متعلق ذمہ داریاں بڑی حد تک صوبائی دائرۂ اختیار میں آنے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی آبادیاتی تبدیلیوں کا مؤثر انتظام محض حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک قومی تقاضا ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ اداروں، نجی شعبے اور معاشرے کے مختلف طبقات کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
ایئر مارشل عاصم سلیمان نے واضح کیا کہ پاکستان کا مستقبل محض آبادی کے حجم سے متعین نہیں ہوگا، بلکہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ملک اپنی آبادی کی صلاحیتوں کو کس حد تک تعلیم یافتہ، ہنرمند، صحت مند اور پیداواری انسانی سرمائے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
سیمینار کے اختتام پر ایک جامع سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی، جس میں خواتین کی تعلیم، انسانی سرمائے کی ترقی، آبادی میں تیز رفتار اضافے، حکومتی اقدامات اور پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد کے طریقۂ کار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو آبادیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی، ادارہ جاتی تعاون اور انسانی ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں