0

حکومت سے کہا تھا کہ مذاکرات کو سنجیدہ لیں، اب نقصان حکومت کو ہوگا، عمر ایوب

اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ ہم نے حکومت سے کہا تھا کہ مذاکرات کو سنجیدہ لیں، اس سب کا نقصان حکومت کو ہوگا۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو اور صحافیوں کے پیکا ایکٹ کیخلاف مظاہرے سے خطاب میں عمر ایوب نے کہا کہ پیکا ایکٹ زبانیں بند کرنے کا کالا قانون ہے، تمام صحافتی تنظمیں متفق ہیں کہ پیکا ایکٹ منظور نہیں، تمام صحافتی تنظمیں متحد ہوکر آگے بڑھیں اپوزیشن ساتھ دے گی۔انہوں نے کہا کہ فارم 47 کی حکومت بھی پیکا قوانین کا نشانہ بنے گی، اس ایکٹ کے بعد صحافیوں کو ہتھکڑیاں لگیں گی۔ چھبیسویں ترمیم کے بعد عدلیہ کو کمزور کیا گیا، عدلیہ کو تقسیم کرکے آپس میں لڑایا گیا، پیکا ایکٹ سے آوازوں کو دبایا جارہا ہے۔
عمر ایوب نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے لکھا کہ ایجنسیاں ان کے کام میں مداخلت کر رہی ہیں، القادر ٹرسٹ کیس اس کی واضح مثال ہے، یہ ایک کالا فیصلہ ہے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا اس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں