0

مبینہ توہین میں چیف جسٹس کو بھی شامل کیا گیا، کیا ججز کو شفاف ٹرائل کا حق نہیں، جسٹس مندوخیل

سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کو جاری شوکاز نوٹس کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل نمٹادی جب کہ سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے جب توہین عدالت کی کارروائی ختم کر دی گئی تو آرڈر کیسے دیا گیا، فیصلے میں مبینہ توہین کرنے والوں میں چیف جسٹس کو بھی شامل کیا گیا، کیا توہین کرنے والے فل کورٹ تشکیل دیں گے.سپریم کورٹ میں ایڈینشل رجسٹرار کو جاری شوکاز نوٹس کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی، جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔
وکیل نذر عباس نے کہا کہ ہم اپنی انٹرا کورٹ اپیل واپس لینا چاہتے ہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ اپنا کلیم واپس لے سکتے ہیں لیکن اپیل واپس نہیں لی جاسکتی۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے نذر عباس کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ کمرہ عدالت سے باہر جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں