اسلام آباد : عالمی نشریاتی ادارے سے وابستہ معروف صحافی علی فرقان کی کتاب “9 مئی سے 8 فروری تک” کی شاندار تقریب رونمائی منعقد ہوئی، جس میں ملک کی اہم سیاسی شخصیات، تجزیہ کاروں اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔ کتاب میں 9 مئی 2023 کے واقعات سے لے کر 8 فروری 2024 کے عام انتخابات تک کے اہم سیاسی حالات اور ان کے اثرات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ بعض واقعات تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں اور ان کا غیرجانبدارانہ تجزیہ ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “صحافت اگر کمپرومائز ہو جائے تو معاشرے کی بہتری ممکن نہیں ہوتی۔” ان کے مطابق کتابیں ماضی کے واقعات کو محفوظ رکھ کر مستقبل کے لیے راہنمائی فراہم کرتی ہیں، اور علی فرقان کی یہ کاوش اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیاستدانوں کو مقتدرہ کے اشاروں پر نہ چلنے کا عہد کرنا ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ “علی فرقان کی کتاب بھی یہ کہتی ہے کہ 2024 کے انتخابات شفاف نہیں تھے۔” ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے آئین کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ طویل عرصے سے “ٹرتھ کمیشن” کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاکہ ملکی تاریخ کے اہم حقائق کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ “چاہے 9 مئی ہو یا 8 فروری، نقصان صرف پاکستان کا ہوا۔ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے کا راستہ نکالنا ہوگا۔”
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ 2024 کے انتخابات کے نتائج ناقابلِ فہم تھے۔ انہوں نے کتاب کے طرزِ تحریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ “علی فرقان نے سیاسی رہنماؤں کے انٹرویوز کے ذریعے حقائق کو سامنے لانے کا بہترین طریقہ اختیار کیا، تاکہ قارئین خود فیصلہ کر سکیں۔”
صحافی علی فرقان نے تقریب کے شرکاء اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “9 مئی کے بعد اندازہ تھا کہ پاکستان کی سیاست میں بڑی تبدیلی آئے گی، اور آنے والے انتخابات ماضی سے مختلف ہوں گے۔ اسی لیے میں نے اس دوران اہم سیاسی رہنماؤں کے انٹرویوز پر مبنی یہ کتاب ترتیب دی، تاکہ عوام تک اصل حقائق پہنچ سکیں۔”
تقریب میں وزیر دفاع خواجہ آصف، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی، سینیٹر سراج الحق، سابق وزیر اعلیٰ سردار مہتاب احمد خان، سیاسی تجزیہ کار میجر خرم حمید روکھڑی، سابق سفیر حمید اصغر قدوائی، پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ، پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، سینئر اینکر عاصمہ شیرازی، امیر عباس، ثمر عباس، ہارون الرشید، اعجاز احمد اور دیگر صحافیوں و تجزیہ کاروں نے شرکت کی۔
یہ کتاب پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ پر ایک مستند حوالہ ثابت ہو سکتی ہے، جو سیاست، میڈیا اور عام قارئین کے لیے یکساں طور پر اہمیت رکھتی ہے۔











