0

عالمی نظام تباہی کے دہانے پر. تحریر: سردار شوکت محمود خان

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے تازہ انتباہ نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ وہ عالمی نظام جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہوا اور دہائیوں تک بین الاقوامی استحکام کی ضامن رہا، آج شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
میری رائے میں، یہ کوئی محض رسمی خطاب نہیں تھا بلکہ ایک سنجیدہ جھلک تھا اس حقیقت کی کہ عالمی قیادت نے ماضی میں جس اعتماد اور تعاون کی بنیاد رکھی تھی، وہ خطرے میں ہے۔ گوتریس نے بالکل درست کہا: “طاقتور قوتیں عالمی تعاون کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہیں، ایسے وقت میں جب دنیا کو اتحاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔” میرے خیال میں یہ صرف الفاظ نہیں، بلکہ حقیقت کی عکاسی ہے جو ہمیں ہر دن محسوس ہوتی ہے — چاہے وہ مشرقِ وسطیٰ کی تازہ کشیدگیاں ہوں یا ترقی پذیر ممالک میں بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری۔
ایران کے احتجاجات یا دیگر ممالک میں عوامی بے چینی اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسانی فلاح اور عدل کے بجائے سیاسی طاقت اور عسکری اقدامات ترجیح پا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عالمی قیادت اگر فوراً اجتماعی اور مؤثر اقدامات نہیں کرے گی، تو نہ صرف انسانی بحران بڑھیں گے بلکہ عالمی تجارت اور سپلائی چین کے نظام میں بھی خطرناک خلل پیدا ہو گا۔
گوتریس کی بات درست ہے کہ کثیرالجہتی نظام (Multilateralism) کے ادارے اب غیر معمولی دباؤ میں ہیں۔ دنیا میں فوجی اخراجات میں اضافہ اور انسانی امداد، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے ناکافی سرمایہ کاری یہ واضح کرتی ہے کہ انسانی سلامتی پر اسلحے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ میں ذاتی طور پر محسوس کرتا ہوں کہ یہ رویہ اگر جاری رہا، تو عالمی نظام صرف خطرے میں نہیں رہے گا بلکہ آنے والی نسلوں کی زندگی بھی متاثر ہو گی۔
تاہم، امید کی کرن بھی موجود ہے۔ گوتریس نے درست کہا کہ پچھلے دہائیوں میں بین الاقوامی تعاون نے مثبت نتائج دیے ہیں، جیسے عالمی صحت کے منصوبے، امن مشنز اور ماحولیاتی معاہدے۔ میرے نزدیک، یہ ثابت کرتا ہے کہ سیاسی عزم اور مشترکہ کوششیں اب بھی اثر رکھتی ہیں۔ اگر عالمی رہنماؤں نے مکالمے، سفارت کاری اور اجتماعی ذمہ داری کو ترجیح دی، تو ہم اس نازک موڑ سے نکل سکتے ہیں۔
ہمارے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ عالمی استحکام کی ذمہ داری صرف اقوامِ متحدہ یا کسی ملک پر نہیں ہے؛ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج کیے گئے فیصلے نہ صرف عالمی اداروں کے مستقبل بلکہ آنے والی نسلوں کے امن، استحکام اور خوشحالی کی سمت بھی متعین کریں گے۔ دنیا واقعی ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، اور یہ فیصلہ ہم سب پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس سمت لے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں